16 اپریل 2012 - 19:30

بعض بین الاقوامی اداروں کی تحقیقات کے مطابق ال سعود کی بادشاہت کا زوال قریب آن پہنچا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق: فارن پالیسی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ شواہد اور نشانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کا بادشاہی نظام بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
فارن پالیسی جرنل میں چھپنے والے مضمون میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ آل سعود خاندان کے ارکان ماضی سے کہاں زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آرہے ہیں۔
یاد رہے کہ آل سعود کے 89 سالہ بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اسی ہفتے منسٹرز کونسل کے اجلاس میں حاضر ہونے کی بجائے اپنے محل میں بیٹھ کر وزراء کے اجلاس کی (ویڈیو کے ذریعے) صدارت کی جبکہ 78 سالہ ولیعہد نائف بن عبدالعزیز ـ جو برسوں سے سرطان خون (Blood Cancer) میں مبتلا ہیں اور ان کی جسمانی صورت حال بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔
فارن پالیسی نے لکھا کہ نائف بن عبدالعزیز ایک ماہ قبل علاج معالجے کے لئے مراکش چلے گئے تھے جہاں سے وہ بعض میڈیکل ٹیسٹوں کے لئے امریکہ پہنچ گئے اور وہ حال ہی میں امریکہ سے واپس آگئے ہیں۔
فارن پالیسی کے مطابق، نظر یوں آتا ہے کہ ضعیف العمر بادشاہ اور ولیعہد ـ جو بیمار بھی ہیں ـ اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہيں اور ولیعہد سلطان بن عبدالعزيز کے انتقال کے بعد وزیر دفاع بننے والے 76 سالہ "سلمان بن عبدالعزیز" ہی ملکی انتظام چلا رہے ہیں۔
فارن پالیسی نے اس مضمون میں لکھا ہے کہ اگر فرض کریں کہ شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے بادشاہ بنیں وہ بھی ضعیف العمر ہيں اور بہت لمبے عرصے تک حکومت نہیں کرسکیں گے۔
واضح رہے کہ شہزادہ سلمان کو ایک دفعہ دل کا دورہ پڑ چـکا ہے اور اگر ان کی تصاویر کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کا بایاں بازو دائیں بازو کی مانند درست کام نہيں کرتا۔
فارن پالیسی بوڑھے حکمرانوں کے گروہ کی جسمانی اور ظاہری صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: لگتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے اور عالم عرب کی قیادت کا دعوی کرنے والے ملک سعودی عرب کو استحکام تک پہنچنے کے لئے طویل اور دشوار گذار راستہ طے کرنا ہے۔
اس وقت نہ صرف سلمان کی بادشاہت کو آل سعود کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو سلمان کا مستقبل بھی تاریک نظر آرہا ہے بلکہ یہ کہنا بھی بہت مشکل ہے کہ سلمان کے بعد آل سعود کے تاج و تخت کا وارث ہوگا چنانچہ آل سعود کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کی بھرمار ہے۔
دوسری جانب سے اس صورت حال میں نائف اور سلمان کے درمیان سخت مسابقت کی بھی پیشن گوئی کی جاسکتی ہے۔
آل سعود کو اندر سے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا اور عبدالعزیز بن سعود کے پوتے اور پڑپوتے بھی حکومت میں حصہ مانگ رہے ہیں اور یہ معاملہ سابق ولیعہد سلطان بن  عبدالعزیز آل سعود کے جنازے میں بھی شہزادوں کی لڑائی اور لاتوں اور مکوں کی صورت میں نمودار ہے۔
واضح رہے کہ شام کے خلاف اسرائیل، آل سعود، امریکہ، فرانس، ترکی، قطر اور دوسرے مغربی اور بعض عرب ممالک نے مل کر جس سازش  کا آغاز کیا تھا اس کا مقصد بھی علاقے میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کا راستہ روکنا اور ڈوبتی ہوئی عرب بادشاہتوں کو نجات دلانا تھا لیکن بظاہر یہ ساری قوتیں بشمول القاعدہ وغیرہ، شام میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آرہی ہیں جبکہ عراق میں بھی اپنی سازشوں میں ناکام ہوچکی ہیں اور ایران کے خلاف مغربی دھمکیوں کا سلسلہ بھی، جو امریکہ و اسرائیل کے عرب حلیفوں سے قومی دباؤ کم کرنے کے لئے شروع ہوچکا تھا، اب ماند پڑگیا ہے چنانچہ فارن پالیسی اور ہیریٹیج انسٹٹیوٹ نیز علاقے کے سیاسی تجزیہ نگاروں کی یہ پیشنگوئی درست نظر آرہی ہے کہ آل سعود کا خاندان طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے کی صلاحیت کھوچکا ہے۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

ہیریٹیج انسٹٹیوٹ - فارن پالیسی ـ بارک اوباما:
آل سعود کا زوال آبنائے ہرمز کی بندش سے زيادہ خطرناک / آل سعود کا زوال قریب ہے / آل سعود ڈکٹیٹر ہے